جلد یا بدیر یہ بات آشکار ہو جائے گی کہ کس طرح سازش کے ذریعے اس ملک کی حقیقی مذہبی جمہوری طاقتوں کو پس منظر میں دھکیل کے مصنوعی احتجاج کندگان اور دھرنے باز مارکٹ میں لانچ کیے گئے -
اس سے ایک تیر میں کئی شکار کیے گئے -
سڑکیں بری طرح بند کروا کے لوگوں میں اس کاز سے دوری پیدا کی گئی -
اس بہانے موبائل فون ، انٹر نیٹ اور دیگر ذرائع رابطہ مکمل بند کر کے لوگوں میں اہل دین سے نفرت پیدا کرنے کے مقاصد حاصل کیے گئے -
سوشل میڈیا پر اور الیکٹرانک میڈیا پر پلاننگ کے تحت جلاؤ گھیراؤ کی ویڈیوز کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ، یہ کسی نے نہ بتایا کہ کسی بھی مذہبی تنظیم کے کسی احتجاج میں ایک تنکا تک نہیں ٹوٹا - یہ واقعات صرف وہاں پیش آئے جہاں نامعلوم ، اوباش اور شوھدے لڑکے "اپائنٹ " کیے گئے تھے ، جن کی ڈیوٹی ہی یہ تھی کہ ایسا کریں - اس کا مقصد عام عوام کی نظر میں حرمت رسول کی حساسیت کو دوسرا رخ دینا تھا -
پاکستان میں سب سے زیادہ ہنگامے شیخپورہ انٹر چینج پر ہوئے ، جہاں تحریک لبیک کا کوئی رسوخ ہی نہیں اور نہ کوئی اور مذہبی جماعت ایسی مضبوط ہے - اتفاق سے یہ میرا آبائی گاؤں بھی ہے -صرف عام اور آوارہ افراد نے ہنگامے کیے اور بدنام پرامن دینی طبقہ کیا گیا -
تمام مذہبی جماعتوں نے پاکستان بھر میں اس دھرنے سے کہیں بڑے پرامن احتجای اجتماع کیے جو سب اس ہنگامے کے پیچھے چھپا دیے گئے -
جب تین دن خوب ہنگامہ کر لیا گیا تو اس قلیل گروہ سے مذاکرات کر کے تمام کھیل لپیٹ دیا گیا -
...آپ جانتے ہیں کہ مڈیکل سائنس میں مدافعتی دوائیں کیسے تیار کی جاتی ہیں ؟
بس یہی طریقہ اختیار کیا گیا - کہ مصنوعی احتجاج کے پردے میں حقیقی احتجاج کو چھپا لیا گیا ..اور مناسب وقت پر اس احتجاج کو ختم کروا لیا گیا --
وگرنہ ہم دیکھتے کہ کوئی اور آرمی میں بغاوت کی بات کرے اور کھول کھول کے کہے کہ غیرت مند جرنیل اٹھیں اور بغاوت کر دیں یا چیف جسٹس کو قتل کرنے کا اعلان کرے اور دو دن بعد اس سے باعزت معاہدے کر کے اسے گھر تک کون جانے دے ؟ ..لیکن یہاں یہ کرامت بھی ہو گئی کہ مفتی صاحب نے کھل کے ججوں کے قتل کا فتوی دیا اور ان کو باعزت رخصتی ملی -
تحریر ابوبکر قدوسی
مصنوعی احتجاج
فرانس میں ایک دن میں ایک کافی شاپ میں بیٹھا کافی پی رہا تھا کہ میری برابر والی ٹیبل پر ایک داڑھی والا آدمی مجھے دیکھ رہا تھا میں اٹھ کر اسکے پاس جا بیٹھا اور میں نے اس سے پوچھا ’’کیا آپ مسلمان ہیں ؟
اس نے مسکرا کر جواب دیا ’’نہیں میں جارڈن کا یہودی ہوں۔
میں ربی ہوں اور پیرس میں اسلام پر پی ایچ ڈی کر رہا ہوں‘
میں نے پوچھا ’’تم اسلام کے کس پہلو پر پی ایچ ڈی کر رہے ہو؟‘‘
وہ شرما گیا اور تھوڑی دیر سوچ کر بولا ’’میں مسلمانوں کی شدت پسندی پر ریسرچ کر رہا ہوں‘‘
میں نے قہقہہ لگایا اور اس سے پوچھا ’’تمہاری ریسرچ کہاں تک پہنچی؟‘‘
اس نے کافی کا لمبا سپ لیا اور بولا ’’میری ریسرچ مکمل ہو چکی ہے اور میں اب پیپر لکھ رہا ہوں‘‘
میں نے پوچھا ’’تمہاری ریسرچ کی فائنڈنگ کیا ہے؟‘‘
اس نے لمبا سانس لیا‘ دائیں بائیں دیکھا‘ گردن ہلائی اور آہستہ آواز میں بولا ’’میں پانچ سال کی مسلسل ریسرچ کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں مسلمان اسلام سے زیادہ اپنے نبی سے محبت کرتے ہیں۔
یہ اسلام پر ہر قسم کا حملہ برداشت کر جاتے ہیں لیکن یہ نبی کی ذات پر اٹھنے والی کوئی انگلی برداشت نہیں کرتے‘‘
یہ جواب میرے لیے حیران کن تھا‘ میں نے کافی کا مگ میز پر رکھا اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا‘
وہ بولا ’’میری ریسرچ کے مطابق مسلمان جب بھی لڑے‘ یہ جب بھی اٹھے اور یہ جب بھی لپکے اس کی وجہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی‘ آپ خواہ ان کی مسجد پر قبضہ کر لیں‘ آپ ان کی حکومتیں ختم کر دیں۔ آپ قرآن مجید کی اشاعت پر پابندی لگا دیں یا آپ ان کا پورا پورا خاندان مار دیں یہ برداشت کرجائیں گے لیکن آپ جونہی ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام غلط لہجے میں لیں گے‘ یہ تڑپ اٹھیں گے اور اس کے بعد آپ پہلوان ہوں یا فرعون یہ آپ کے ساتھ ٹکرا جائیں گے‘‘
میں حیرت سے اس کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولا ’’میری فائنڈنگ ہے جس دن مسلمانوں کے دل میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نہیں رہے گی اس دن اسلام ختم ہو جائے گا۔
چنانچہ آپ اگر اسلام کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو آپ کومسلمانوں کے دل سے ان کا رسول نکالنا ہوگا‘‘
اس نے اس کے ساتھ ہی کافی کا مگ نیچے رکھا‘ اپنا کپڑے کا تھیلا اٹھایا‘ کندھے پر رکھا‘ سلام کیا اور اٹھ کر چلا گیا
لیکن میں اس دن سے ہکا بکا بیٹھا ہوں‘ میں اس یہودی ربی کو اپنا محسن سمجھتا ہوں کیونکہ میں اس سے ملاقات سے پہلے تک صرف سماجی مسلمان تھا لیکن اس نے مجھے دو فقروں میں پورا اسلام سمجھا دیا‘
میں جان گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اسلام کی روح ہے اور یہ روح جب تک قائم ہے اس وقت تک اسلام کا وجود بھی سلامت ہے‘ جس دن یہ روح ختم ہو جائے گی اس دن ہم میں اور عیسائیوں اور یہودیوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا
بہت اچھا کالم
ﭨﯿﮑﺴﺎﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ 37 ﺳﺎﻟﮧ ﮐﺎﺭﻻ ﻓﮯ ﭨﮑﺮ
( Karla Faye Tucker ) ﮐﻮ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﮑﺸﻦ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ،موت کے بستر ﭘﺮ ﻟﯿﭩﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ھنس ﮐﮯ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ، ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﻧﺒﺾ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ " ﺍﯾﺴﯽ ﭘﺮﺳﮑﻮﻥ ﻣﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯽ "
ﮐﺎﺭﻻ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺟﺴﻢ ﻓﺮﻭﺵ ﻋﻮﺭﺕ ﺗﮭﯽ ، ﺑﭽﭙﻦ ﮬﯽ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺁﺗﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﺸﮯ ﭘﺮ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ ﭘﮭﺮ ﺁﮬﺴﺘﮧ ﺁﮬﺴﺘﮧ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﻧﻘﺶ ﻗﺪﻡ ﭘﺮ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ ، 10 ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺍُﺳﮯ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﺍُﺳﮯ ﺍﺱ ﭘﯿﺸﮯ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮬﯿﺌﮯ ، ﺳﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻮﺍﺋﮯ ﻓﺮﯾﻨﮉ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮔﺎﮌﯼ ﭼﮭﯿﻨﻨﮯ ﮐﯽ اﺳﮑﯿﻢ ﺑﻨﺎﺋﯽ ، ﻣﻮﻗﻌﮧ ﻭﺍﺭﺩﺍﺕ ﭘﺮ ﻣﺰﺍﺣﻤﺖ ﮬﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﺭﻻ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻮﺍﺋﮯ ﻓﺮﯾﻨﮉ ﻧﮯ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺟﻮﮌﮮ ﮐﻮ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ، ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭘﮑﮍﮮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻧﮯ ﺳﺰﺍﺋﮯ ﻣﻮﺕ ﺳﻨﺎ ﺩﯼ ، ﭘﮭﯿﺮ ﺍﭘﯿﻠﻮﮞ کے ﭼﮑﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﻋﺮﺻﮧ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮔﯿﺎ ، ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺟﯿﻞ ﮐﮯ ﻋﻤﻠﮯ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﺎﺭﻻ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺷﺮﺍﺑﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺪ ﺯﺑﺎﻥ ﻋﻮﺭﺕ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺑﺎﺋﺒﻞ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺻﺎﻑ ﮬﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺧﻼﻕ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ، ﻭﮦ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺋﺒﻞ ﭘﮍﮬﺘﯽ ﺭﮬﺘﯽ ، ﻣﻠﻨﺎ ﺟﻠﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﭼﯿﺖ ﺧﺘﻢ ﮐﺮ ﺩﯼ۔
ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﻣﺒﻠﻐﮧ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﯽ ﻣﺒﻠﻐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎظ و زباں ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺛﯿﺮ ﺗﮭﯽ ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮬﯽ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯼ ۔ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻭ ﺭﯾﺎﺿﺖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯿﺎﮞ ﮬﯽ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺟﻮ ﺍﺳﮯ ﻗﺎﺗﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﮓ ﺩﻝ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺣﺎﻧﯽ ﺍﻧﻘﻼﺏ ﺁ ﮔﯿﺎ ۔ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﺟﺐ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺟﯿﻞ ﭘﺮ ﭨﻮﭦ ﭘﮍﺍ ، ﭘﮭﺮ ﮬﺮ ﺍﺧﺒﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﺭﻻ ﮐﯽ ﮬﯿﮉ ﻻﺋﻦ ﻟﮕﯽ ۔ ﮬﺮ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻓﻮﭨﻮ ﺍُﭨﮭﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﻣﻈﺎﮬﺮﮮ ﮬﻮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ، ﺣﻘﻮﻕ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺗﻨﻈﯿﻤﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﻣﯿﮟ " ﮐﺎﺭﻻ ﺑﭽﺎﺅ " ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺣﺘﺠﺎﺝ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﺑﮍﮬﺎ ﮐﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﭘﻮﭖ ﺟﺎﻥ ﭘﺎﻝ ﻧﮯ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﮐﻮ ﺳﺰﺍ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﺩﮮ ﺩﯼ ﻟﯿﮑﻦ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻧﮯ ﭨﮭﮑﺮﺍ ﺩﯼ
ﺳﺰﺍﺋﮯ ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺩﻥ ﻗﺒﻞ ﮐﻨﮓ ﻟﯿﺮﯼ نے CNN ﮐﮯ لیے ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﻮﺭﮮ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﻭﮦ ﻗﺎﺗﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﮬﮯ۔ ﻟﯿﺮﯼ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ " ﺗﻤﮭﯿﮟ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﺧﻮﻑ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ " ، ﮐﺎﺭﻻ ﻧﮯ ﭘﺮ ﺳﮑﻮﻥ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ " ﻧﮩﯿﮟ بلکہ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺭﺏ ﮐﻮ ﻣﻠﻨﺎ ﭼﺎﮬﺘﯽ ﮬﻮﮞ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮬﯽ ﺑﺪﻝ ﺩﯼ "
ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺷﮩﺮﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺘﻔﻘﮧ ﺭﺣﻢ ﮐﯽ ﺍﭘﯿﻞ " ﭨﯿﮑﺴﺎﺱ ﺑﻮﺭﮈ ﺁﻑ ﭘﺎﺭﮈﻥ ﺍﯾﻨﮉ ﭘﯿﺮﻭﻝ " ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ۔ ﺑﻮﺭﮈ ﻧﮯ ﺳﺰﺍ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ، ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﭨﯿﮑﺴﺎﺱ ﮐﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺟﺎﺭﺝ ﺑُﺶ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺣﺘﺠﺎﺝ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ۔ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﭘﺎﺩﺭﯼ ﺟﯿﮑﯽ ﺟﯿﮑﺴﻦ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﺭﻻ ﮐﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﮐﺮ ﺩﯼ ، ﺑُﺶ ﻧﮯ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﺳﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺎﺭﻻ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﮑﯽ ﺟﯿﮑﺴﻦ ﺳﮯ ﮬﻤﺪﺭﺩﯼ ﮬﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﺩﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ ﺳﺰﺍ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﻧﮩﯿﮟ ، ﻭﮦ ﺍﮔﺮ ﻓﺮﺷﺘﮧ ﺑﮭﯽ ﮬﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﻣﻌﺎﻑ ﻧﮧ ﮬﻮ ﺳﮑﺘﯽ "
ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﺩﻭ ﺭﻭﺯ ﻗﺒﻞ ﮐﺎﺭﻻ ﮐﯽ ﺭﺣﻢ ﮐﯽ ﺍﭘﯿﻞ ﺳﭙﺮﯾﻢ ﮐﻮﺭﭦ ﭘﮩﯿﻨﭽﯽ ﺗﻮ ﺟﺞ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﯼ " ﺍﮔﺮ ﺁﺝ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎﺭﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻘﺪﺱ ﮨﺴﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﻣﺮﯾﮑﻦ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺭﯾﻠﯿﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺲ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻭ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﻋﺎﯾﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯼ ﺍﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﺭﻋﺎﯾﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﺎ، ﮨﻢ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍُﻥ ﺩﻭ ﻻﺷﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺑﺪﮦ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﮐﺎﺭﻻ ﻧﮯ ﻣﺎﺭ ﮈﺍﻻ "
ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺳﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ *ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﮐﺮﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺟﮩﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﻨﺴﻮﺏ ﻭﮦ ﻗﻮﻝ ﯾﺎﺩ ﺁ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ*
*" ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﻔﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﺎ ﺍﻧﺼﺎﻓﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ۔*
(as received)
( Karla Faye Tucker ) ﮐﻮ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﮑﺸﻦ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ،موت کے بستر ﭘﺮ ﻟﯿﭩﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ھنس ﮐﮯ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ، ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﻧﺒﺾ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ " ﺍﯾﺴﯽ ﭘﺮﺳﮑﻮﻥ ﻣﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯽ "
ﮐﺎﺭﻻ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺟﺴﻢ ﻓﺮﻭﺵ ﻋﻮﺭﺕ ﺗﮭﯽ ، ﺑﭽﭙﻦ ﮬﯽ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺁﺗﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﺸﮯ ﭘﺮ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ ﭘﮭﺮ ﺁﮬﺴﺘﮧ ﺁﮬﺴﺘﮧ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﻧﻘﺶ ﻗﺪﻡ ﭘﺮ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ ، 10 ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺍُﺳﮯ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﺍُﺳﮯ ﺍﺱ ﭘﯿﺸﮯ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮬﯿﺌﮯ ، ﺳﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻮﺍﺋﮯ ﻓﺮﯾﻨﮉ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮔﺎﮌﯼ ﭼﮭﯿﻨﻨﮯ ﮐﯽ اﺳﮑﯿﻢ ﺑﻨﺎﺋﯽ ، ﻣﻮﻗﻌﮧ ﻭﺍﺭﺩﺍﺕ ﭘﺮ ﻣﺰﺍﺣﻤﺖ ﮬﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﺭﻻ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻮﺍﺋﮯ ﻓﺮﯾﻨﮉ ﻧﮯ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺟﻮﮌﮮ ﮐﻮ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ، ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭘﮑﮍﮮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻧﮯ ﺳﺰﺍﺋﮯ ﻣﻮﺕ ﺳﻨﺎ ﺩﯼ ، ﭘﮭﯿﺮ ﺍﭘﯿﻠﻮﮞ کے ﭼﮑﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﻋﺮﺻﮧ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮔﯿﺎ ، ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺟﯿﻞ ﮐﮯ ﻋﻤﻠﮯ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﺎﺭﻻ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺷﺮﺍﺑﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺪ ﺯﺑﺎﻥ ﻋﻮﺭﺕ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺑﺎﺋﺒﻞ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺻﺎﻑ ﮬﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺧﻼﻕ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ، ﻭﮦ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺋﺒﻞ ﭘﮍﮬﺘﯽ ﺭﮬﺘﯽ ، ﻣﻠﻨﺎ ﺟﻠﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﭼﯿﺖ ﺧﺘﻢ ﮐﺮ ﺩﯼ۔
ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﻣﺒﻠﻐﮧ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﯽ ﻣﺒﻠﻐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎظ و زباں ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺛﯿﺮ ﺗﮭﯽ ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮬﯽ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯼ ۔ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻭ ﺭﯾﺎﺿﺖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯿﺎﮞ ﮬﯽ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺟﻮ ﺍﺳﮯ ﻗﺎﺗﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﮓ ﺩﻝ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺣﺎﻧﯽ ﺍﻧﻘﻼﺏ ﺁ ﮔﯿﺎ ۔ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﺟﺐ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺟﯿﻞ ﭘﺮ ﭨﻮﭦ ﭘﮍﺍ ، ﭘﮭﺮ ﮬﺮ ﺍﺧﺒﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﺭﻻ ﮐﯽ ﮬﯿﮉ ﻻﺋﻦ ﻟﮕﯽ ۔ ﮬﺮ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻓﻮﭨﻮ ﺍُﭨﮭﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﻣﻈﺎﮬﺮﮮ ﮬﻮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ، ﺣﻘﻮﻕ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺗﻨﻈﯿﻤﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﻣﯿﮟ " ﮐﺎﺭﻻ ﺑﭽﺎﺅ " ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺣﺘﺠﺎﺝ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﺑﮍﮬﺎ ﮐﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﭘﻮﭖ ﺟﺎﻥ ﭘﺎﻝ ﻧﮯ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﮐﻮ ﺳﺰﺍ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﺩﮮ ﺩﯼ ﻟﯿﮑﻦ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻧﮯ ﭨﮭﮑﺮﺍ ﺩﯼ
ﺳﺰﺍﺋﮯ ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺩﻥ ﻗﺒﻞ ﮐﻨﮓ ﻟﯿﺮﯼ نے CNN ﮐﮯ لیے ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﻮﺭﮮ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﻭﮦ ﻗﺎﺗﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﮬﮯ۔ ﻟﯿﺮﯼ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ " ﺗﻤﮭﯿﮟ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﺧﻮﻑ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ " ، ﮐﺎﺭﻻ ﻧﮯ ﭘﺮ ﺳﮑﻮﻥ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ " ﻧﮩﯿﮟ بلکہ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺭﺏ ﮐﻮ ﻣﻠﻨﺎ ﭼﺎﮬﺘﯽ ﮬﻮﮞ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮬﯽ ﺑﺪﻝ ﺩﯼ "
ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺷﮩﺮﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺘﻔﻘﮧ ﺭﺣﻢ ﮐﯽ ﺍﭘﯿﻞ " ﭨﯿﮑﺴﺎﺱ ﺑﻮﺭﮈ ﺁﻑ ﭘﺎﺭﮈﻥ ﺍﯾﻨﮉ ﭘﯿﺮﻭﻝ " ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ۔ ﺑﻮﺭﮈ ﻧﮯ ﺳﺰﺍ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ، ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﭨﯿﮑﺴﺎﺱ ﮐﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺟﺎﺭﺝ ﺑُﺶ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺣﺘﺠﺎﺝ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ۔ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﭘﺎﺩﺭﯼ ﺟﯿﮑﯽ ﺟﯿﮑﺴﻦ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﺭﻻ ﮐﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﮐﺮ ﺩﯼ ، ﺑُﺶ ﻧﮯ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﺳﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺎﺭﻻ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﮑﯽ ﺟﯿﮑﺴﻦ ﺳﮯ ﮬﻤﺪﺭﺩﯼ ﮬﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﺩﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ ﺳﺰﺍ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﻧﮩﯿﮟ ، ﻭﮦ ﺍﮔﺮ ﻓﺮﺷﺘﮧ ﺑﮭﯽ ﮬﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﻣﻌﺎﻑ ﻧﮧ ﮬﻮ ﺳﮑﺘﯽ "
ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﺩﻭ ﺭﻭﺯ ﻗﺒﻞ ﮐﺎﺭﻻ ﮐﯽ ﺭﺣﻢ ﮐﯽ ﺍﭘﯿﻞ ﺳﭙﺮﯾﻢ ﮐﻮﺭﭦ ﭘﮩﯿﻨﭽﯽ ﺗﻮ ﺟﺞ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﯼ " ﺍﮔﺮ ﺁﺝ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎﺭﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻘﺪﺱ ﮨﺴﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﻣﺮﯾﮑﻦ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺭﯾﻠﯿﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺲ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻭ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﻋﺎﯾﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯼ ﺍﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﺭﻋﺎﯾﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﺎ، ﮨﻢ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍُﻥ ﺩﻭ ﻻﺷﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺑﺪﮦ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﮐﺎﺭﻻ ﻧﮯ ﻣﺎﺭ ﮈﺍﻻ "
ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺳﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ *ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﮐﺮﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺟﮩﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﻨﺴﻮﺏ ﻭﮦ ﻗﻮﻝ ﯾﺎﺩ ﺁ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ*
*" ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﻔﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﺎ ﺍﻧﺼﺎﻓﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ۔*
(as received)
Karla Faye Tucker کی کہانی
۔🍃🌹🍃🌹🍃🌹
_جو علم آپ کو اپنے عیب_
_دکھائے وہی اصل علم ہے،_
_دوسروں کے عیب دیکھنا_
_خود سے دوری ہے ، *اللہ*_
_سے دوری ہے ۔۔۔ وہی علم_
_روشنی پھیلاتا ہے جو آپ کو_
_خود شناس بنا سکے ۔ ۔ ۔ !!_
_*خــوش رہیں خــوشیاں بانٹیں۔*_
_*انتخابـــــــــــ*_
_*خـــاکـــســــار*_
_*سنــــھری بـ۔۔۔ـاتیـــــں 📚*_
۔🍃🌹🍃🌹🍃🌹
۔🍃🌹🍃🌹🍃🌹
_اصل اور نقل کا رنگ_
_ایک ہی ہوتا ہے_
_لیکن جاننے والے کی_
_نگاہ میں ان میں ہزار_
_ہا میلوں کے فاصلے_
_ہوتے ہیں._
*حضرت واصف علی واصف ؒ*
_*انتخابـــــــــــ*_
_*خـــاکـــســــار*_
_*سنــــھری بـ۔۔۔ـاتیـــــں 📚*_
۔🍃🌹🍃🌹
۔🌹🍃🌹🍃🌹🍃
_وہ احساس بهت ہی_
_*الگ ہوتا ہے جب اللہ*_
_کی محبت کو_
_محسوس_
_کرتےہوئے آنکهو سے_
_آنسوں بہنا شروع ہو_
_جاتے ہیں_
_*انتخابـــــــــــ*_
_*خـــاکـــســــار*_
_*سنــــھری بـ۔۔۔ـاتیـــــں 📚*_
۔🌹🍃🌹🍃🌹🌹
۔🍃🌹🍃🌹🍃
جو دکھ دے اسے
چھوڑدو مگرجسے
چھوڑ دو اسےدکھ
نہ دو
_*انتخابـــــــــــ*_
_*خـــاکـــســــار*_
_*سنــــھری بـ۔۔۔ـاتیـــــں 📚*_
۔🍃🌹🍃🌹🍃
سنہری باتیں
اپنا پیٹ خالی رہ جائے لیکن چھوٹی بہن کو بھوکا نہیں رکھ سکتے۔
تحریر:۔ محمد صدیق (آج کی آپ بیتی)
اگاپنا پیٹ خالی رہ جائے لیکن چھوٹی بہن کو بھوکا نہیں رکھ سکتے۔
تحریر:۔ محمد صدیق (آج کی آپ بیتی)
اگر بات اچھی لگے تو اسے دوسروں تک بھی شیئر کریں کیا پتا اللہ کس کے ہاتھوں سے دوسروں کی زندگی اور آخرت کو بدل دے۔
معزز دوستوں جو بات میں لکھنے جا رہا ہوں یہ کوئی کہانی یا قہاوت نہیں بلکہ آج یکم نومبر بروز جمعرات صبح تقریباً آٹھ بجنے کے قریب کا واقعہ ہے کہ میں معمول کے مطابق نیوسٹی سیکٹر ڈی اور بن خرماں کے درمیان اپنے موٹر سائیکل پر سفر کر کے اپنی ڈیوٹی پر جا رہا تھا کہ کہ اونچی آواز میں بھائی بھائی کی صدا آنے لگی تو میں نے دیکھا ایک پٹھا ن ک ننھا سا بچہ کچرے کا بیگ اٹھائے سامنے آگیا اور لفٹ مانگی ۔میں نے لفٹ دے دی اور راستے میں اس سے اس کے بارے میں پوچھا کہ وہ یہ کام کیوں کرتا ہے اور پڑھائی کیوں نہیں کرتا تو میرے پوچھنے پر اس معصوم بچے نے کہا بھائی جی میں سکول میں پڑھتا تھا کہ ابو کی ٹانگ ٹوٹ گئ اور جس کی وجہ سے مجھے پڑھائی چھوڑنی پڑی اور پھر کام کاج پر آنا پڑھا۔مزید پوچھنے پر اس نے بتایا کہ دن میں 3سو روپے کما لیتا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر راشن گھر لے کر جاتا ۔اس کی عمر تقریباً 12 سے 15 سال کے درمیان تھی اس سے چھوٹا ایک بھائی اور تین بہنیں تھیں جن کا خرچا اس کے ذمہ تھا۔اس بچے سے گفتگو کرتے ہوئے اس کی قابلیت ظاہر ہو رہی تھی۔دل نہ چاہا کہ اس کو سکول میں داخل کروا کہ آوں پھر خیال آیا کہ سکول نہ جانے کہ جو وجہ ہے پہلے اس کو حل کرنا ضروری ہے ۔ابو کا نمبر مانگنے پر اس نے بولا کبھی فون کیا ہی نہیں اور روزانہ اسی جگہ سے کچرا کا بیگ لے کر سامان اکٹھا کرتا اور پھر دوسرے پہر نانگی ایریا کی طرف جاتا ہے اور وہاں سے آٹا اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء گھر لے کر جاتا ہے۔دوستوں اس ننھے کا جذبہ اپنی بہن کے لیے دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اتنی سے عمر میں بھی اتنی بڑی سوچ کہ خود بھوکا رہ سکتا ہوں لیکن اپنی بہن کو دودھ نہ ملنے پر روتا نہیں دیکھ سکتا۔میں اپنی بہنوں سے بہت پیار کر تا ہوں اور ان کے لیے پڑھائی چھوڑ کر کام کرتا ہوں کہ گھر کا نظام چلے۔مزید یہ کہ گھر میں بجلی بھی نہیں لگی کہ بل نہیں ادا کر سکتے۔جلدی میں اس کا ایڈریس پوچھنا بھول گیا لیکن کل اس سے دوبارہ ملنے کا بولا تھا کہ ابو کا نمبر لاو پھر مخیر حضرات کے ذریعے اس کی تعلیم و ضروریات زندگی کا کوئ مناسب بندوبست کیا جا سکے۔دوستوں یہ ایک ننھے گل خان کی کہانی نہیں بلکہ اس ملک میں بسنے والے بے شمار سفید پوش لوگوں کی کہانیاں ایسی ہی ہیں فرق صرف اتنا سا ہے کہ و منظر عام پر نہیں آتی اور ان کی زندگی کا چراغ گل ہو جاتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا اپ میرے کہنے پر ان کی مدد کریں لیکن اتنا ضرور کہنا چاہوں گا جتنی ہو سکے اور جنتا اللہ نے آپکو آج دیا ہوا ہے اس میں سے اسکے بندوں پر بھی خرچ کیجئے شاید کسی غریب کے گھر کے چولے کے ساتھ اس کی زندگی اور بہتر مستقبل سے کئی مزید گھروں کے چولے بھی جل جائیں۔
ہم کتنا پیسہ اپنی ذاتی خواہشات پر لگا دیتے ہیں لیکن کسی غریب کی مدد کے لیے ہمارے ہاتھ اور حالات تنگ کیوں ہو جاتے ہیں۔کیوںوں تک بھی شیئر کریں کیا پتا اللہ کس کے ہاتھوں سے دوسروں کی زندگی اور آخرت کو بدل دے۔
معزز دوستوں جو بات میں لکھنے جا رہا ہوں یہ کوئی کہانی یا قہاوت نہیں بلکہ آج یکم نومبر بروز جمعرات صبح تقریباً آٹھ بجنے کے قریب کا واقعہ ہے کہ میں معمول کے مطابق نیوسٹی سیکٹر ڈی اور بن خرماں کے درمیان اپنے موٹر سائیکل پر سفر کر کے اپنی ڈیوٹی پر جا رہا تھا کہ کہ اونچی آواز میں بھائی بھائی کی صدا آنے لگی تو میں نے دیکھا ایک پٹھا ن ک ننھا سا بچہ کچرے کا بیگ اٹھائے سامنے آگیا اور لفٹ مانگی ۔میں نے لفٹ دے دی اور راستے میں اس سے اس کے بارے میں پوچھا کہ وہ یہ کام کیوں کرتا ہے اور پڑھائی کیوں نہیں کرتا تو میرے پوچھنے پر اس معصوم بچے نے کہا بھائی جی میں سکول میں پڑھتا تھا کہ ابو کی ٹانگ ٹوٹ گئ اور جس کی وجہ سے مجھے پڑھائی چھوڑنی پڑی اور پھر کام کاج پر آنا پڑھا۔مزید پوچھنے پر اس نے بتایا کہ دن میں 3سو روپے کما لیتا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر راشن گھر لے کر جاتا ۔اس کی عمر تقریباً 12 سے 15 سال کے درمیان تھی اس سے چھوٹا ایک بھائی اور تین بہنیں تھیں جن کا خرچا اس کے ذمہ تھا۔اس بچے سے گفتگو کرتے ہوئے اس کی قابلیت ظاہر ہو رہی تھی۔دل نہ چاہا کہ اس کو سکول میں داخل کروا کہ آوں پھر خیال آیا کہ سکول نہ جانے کہ جو وجہ ہے پہلے اس کو حل کرنا ضروری ہے ۔ابو کا نمبر مانگنے پر اس نے بولا کبھی فون کیا ہی نہیں اور روزانہ اسی جگہ سے کچرا کا بیگ لے کر سامان اکٹھا کرتا اور پھر دوسرے پہر نانگی ایریا کی طرف جاتا ہے اور وہاں سے آٹا اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء گھر لے کر جاتا ہے۔دوستوں اس ننھے کا جذبہ اپنی بہن کے لیے دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اتنی سے عمر میں بھی اتنی بڑی سوچ کہ خود بھوکا رہ سکتا ہوں لیکن اپنی بہن کو دودھ نہ ملنے پر روتا نہیں دیکھ سکتا۔میں اپنی بہنوں سے بہت پیار کر تا ہوں اور ان کے لیے پڑھائی چھوڑ کر کام کرتا ہوں کہ گھر کا نظام چلے۔مزید یہ کہ گھر میں بجلی بھی نہیں لگی کہ بل نہیں ادا کر سکتے۔جلدی میں اس کا ایڈریس پوچھنا بھول گیا لیکن کل اس سے دوبارہ ملنے کا بولا تھا کہ ابو کا نمبر لاو پھر مخیر حضرات کے ذریعے اس کی تعلیم و ضروریات زندگی کا کوئ مناسب بندوبست کیا جا سکے۔دوستوں یہ ایک ننھے گل خان کی کہانی نہیں بلکہ اس ملک میں بسنے والے بے شمار سفید پوش لوگوں کی کہانیاں ایسی ہی ہیں فرق صرف اتنا سا ہے کہ و منظر عام پر نہیں آتی اور ان کی زندگی کا چراغ گل ہو جاتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا اپ میرے کہنے پر ان کی مدد کریں لیکن اتنا ضرور کہنا چاہوں گا جتنی ہو سکے اور جنتا اللہ نے آپکو آج دیا ہوا ہے اس میں سے اسکے بندوں پر بھی خرچ کیجئے شاید کسی غریب کے گھر کے چولے کے ساتھ اس کی زندگی اور بہتر مستقبل سے کئی مزید گھروں کے چولے بھی جل جائیں۔
ہم کتنا پیسہ اپنی ذاتی خواہشات پر لگا دیتے ہیں لیکن کسی غریب کی مدد کے لیے ہمارے ہاتھ اور حالات تنگ کیوں ہو جاتے ہیں۔کیوں
ننے گُل خان کی کہانی
بیوی کے رویے میں تبدیلی کیوں؟؟
ایک سر پھری بیوی جس نے خاوند کی ناک میں دم، اور اپنے اسلوب اور معاملات سے خاوند کا جینا حرام کیا ہوا تھا۔ اُس نے ایک دن خاوند کو صبح سویرے نیند سے جگایا اور نہایت احترام اور محبت سے کہا،میرے سرتاج؛ اُٹھیئے، صبح ہو گئی ہے۔ اور پھر شاندار تیار کیا ہوا ناشتہ خاوند کے بستر پر ہی لے آئی۔
خاوند جو پہلے ہی نیند سے جاگ کر بیوی کے رویہ پر حیرت زدہ بیٹھا تھا، ناشتہ دیکھ کر چُپ نہ رہ سکا اور پوچھ لیا،آج کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ یہ اچانک کیسی تبدیلی آ گئی ہے تم میں؟
بیوی نے کہا،کل ہمسایوں کے گھر میں تبلیغ والی بیبیاں آئی تھیں۔ انہوںنے بتایا کہ جس مرد کی بیوی بد زبان اور بد اخلاق ہو گی اللہ اُس مرد کی مغفرت فرما دے گا اور ہو سکتا ہے کہ اُس مرد کو بیوی کی بد اخلاقی اور بد تمیزی برداشت کرنے پر جنت میں بھی داخل کر دے۔
خاوند نے کہا، یہاں تک تو ٹھیک ہے، آگے؟
بیوی نے غراتے ہوئے کہا،جنت جانا ہے تو اپنے عملوں سے جا، میسنا بن کر میری وجہ سے کیوں جاتا ہے؟







