ایک بادشاہ نے اپنی رعایا پر ظلم کرکے بہت سا را خزانہ جمع کر لیا اور اسے شہر سے باہر ایک جنگل میں خفیہ غار میں چھپا دیا۔غار کے دروازے کی دو چابیاں تھیں ۔ایک بادشاہ کے پاس اور دوسرے اس کے وزیر کے پاس تھی ۔
ان دو کے علاوہ کسی کو بھی اس غار کا پتا نہیں تھا۔ایک دن صبح کے وقت بادشاہ خزانہ دیکھنے کے لیے غار کی طرف گیا اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا ۔
خزانہ کمروں میں چاول اور گندم کے اَنبار کی طرح بکھرا پڑا تھا ۔ہیرے اور جواہرات الماری میں سجے ہوئے تھے۔
بادشاہ اس خزانے کو دیکھ کر بہت خوش ہوا،لیکن آتے وقت بادشاہ غار کا دروازہ ہی بند کرنا بھول گیا تھا۔اسی وقت وزیر کا اس غار کی طرف سے گزر ہوا ۔وزیر نے جب خزانے کا دروازہ کھلا دیکھا تو حیران رہ گیا ۔
وہ سمجھا کہ غلطی سے دروازہ کھلا رہ گیا ہے ۔
وہ سمجھا کہ غلطی سے دروازہ کھلا رہ گیا ہے ۔اسی خیال کے تحت اس نے دروازہ باہر سے بند کر دیا اور محل پہنچ کر یہ بات بھول گیا۔
جب بادشاہ ہیرے اور جواہرات کا معائنہ کرنے سے فارغ ہوا تو واپسی کا سوچا، لیکن جب وہ دروازے کی طرف پہنچا تو دیکھا کہ وہ تو بند تھا۔
بادشاہ نے دروازے کو خوب زور زور سے پیٹنا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ چِلاّ تا بھی رہا ،لیکن اس ویران جنگل میں اس کی آواز سننے والا کوئی نہ تھا۔
وہ واپس اپنے خزانے کی طرف گیا اور ان سے دل بہلانے کی کوشش کرنے لگا ،لیکن بھوک اور پیاس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ پھر دروازے کی طرف گیا،اس نے چینخنا چِلاّنا شروع کر دیا اور پھر تھک ہار کر وہ واپس جگہ پر آگیا ۔
بھوک اور پیاس کی شدت اتنی بڑھ گئی تھی کہ آخر وہ ہیروں سے بھیک مانگنے لگا:”اے قیمتی پتھر! مجھے ایک وقت کا کھانا دے دو۔“اسے ایسا لگا جیسے،وہ ہیرے اس کی سادگی پر زور زور سے ہنس رہے ہوں۔اس نے ایک ہیرا اُٹھا یا اور زور سے دیوار پر مارا،پھر موتیوں سے اپنی فریاد کرنے لگا:”اے قیمتی موتیوں ! مجھے ایک گلاس پانی دے دو۔
“اسے ایسا لگا کہ موتی اور جواہرات اس پر ہنس رہے ہوں ،بادشاہ کو بہت غصہ آیا ،لیکن بھوک غصے پر غالب آگئی۔
آخر بھوک کی شدت اتنی بڑھ گئی کہ وہ نڈھال ہونے لگا۔اس نے دنیا کو پیغام دینے کے لیے زمین پر کچھ لکھا ۔اس کے بعد بادشاہ کا انتقال ہو گیا۔
وزیر بادشاہ کو تلاش کرتا ہوا اس غار کی طرف سے گزر ہواتو اس نے سوچا کہ بادشاہ کے خزانے کا کچھ اَتا پتا کریں ۔جب وہ غا کے اند ر داخل ہوا تو دیکھا کہ بادشاہ مرا پڑا ہے اور زمین پر لکھا ہے:”دولت کسی کو زندگی نہیں دے سکتی
ان دو کے علاوہ کسی کو بھی اس غار کا پتا نہیں تھا۔ایک دن صبح کے وقت بادشاہ خزانہ دیکھنے کے لیے غار کی طرف گیا اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا ۔
خزانہ کمروں میں چاول اور گندم کے اَنبار کی طرح بکھرا پڑا تھا ۔ہیرے اور جواہرات الماری میں سجے ہوئے تھے۔
بادشاہ اس خزانے کو دیکھ کر بہت خوش ہوا،لیکن آتے وقت بادشاہ غار کا دروازہ ہی بند کرنا بھول گیا تھا۔اسی وقت وزیر کا اس غار کی طرف سے گزر ہوا ۔وزیر نے جب خزانے کا دروازہ کھلا دیکھا تو حیران رہ گیا ۔
وہ سمجھا کہ غلطی سے دروازہ کھلا رہ گیا ہے ۔
وہ سمجھا کہ غلطی سے دروازہ کھلا رہ گیا ہے ۔اسی خیال کے تحت اس نے دروازہ باہر سے بند کر دیا اور محل پہنچ کر یہ بات بھول گیا۔
جب بادشاہ ہیرے اور جواہرات کا معائنہ کرنے سے فارغ ہوا تو واپسی کا سوچا، لیکن جب وہ دروازے کی طرف پہنچا تو دیکھا کہ وہ تو بند تھا۔
بادشاہ نے دروازے کو خوب زور زور سے پیٹنا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ چِلاّ تا بھی رہا ،لیکن اس ویران جنگل میں اس کی آواز سننے والا کوئی نہ تھا۔
وہ واپس اپنے خزانے کی طرف گیا اور ان سے دل بہلانے کی کوشش کرنے لگا ،لیکن بھوک اور پیاس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ پھر دروازے کی طرف گیا،اس نے چینخنا چِلاّنا شروع کر دیا اور پھر تھک ہار کر وہ واپس جگہ پر آگیا ۔
بھوک اور پیاس کی شدت اتنی بڑھ گئی تھی کہ آخر وہ ہیروں سے بھیک مانگنے لگا:”اے قیمتی پتھر! مجھے ایک وقت کا کھانا دے دو۔“اسے ایسا لگا جیسے،وہ ہیرے اس کی سادگی پر زور زور سے ہنس رہے ہوں۔اس نے ایک ہیرا اُٹھا یا اور زور سے دیوار پر مارا،پھر موتیوں سے اپنی فریاد کرنے لگا:”اے قیمتی موتیوں ! مجھے ایک گلاس پانی دے دو۔
“اسے ایسا لگا کہ موتی اور جواہرات اس پر ہنس رہے ہوں ،بادشاہ کو بہت غصہ آیا ،لیکن بھوک غصے پر غالب آگئی۔
آخر بھوک کی شدت اتنی بڑھ گئی کہ وہ نڈھال ہونے لگا۔اس نے دنیا کو پیغام دینے کے لیے زمین پر کچھ لکھا ۔اس کے بعد بادشاہ کا انتقال ہو گیا۔
وزیر بادشاہ کو تلاش کرتا ہوا اس غار کی طرف سے گزر ہواتو اس نے سوچا کہ بادشاہ کے خزانے کا کچھ اَتا پتا کریں ۔جب وہ غا کے اند ر داخل ہوا تو دیکھا کہ بادشاہ مرا پڑا ہے اور زمین پر لکھا ہے:”دولت کسی کو زندگی نہیں دے سکتی
نادشاہ کے ظلم کہانی
گاجر بوٹی(Parthinium)
آگاہی Awareness
ایک جڑی بوٹی پارتھینیم اردو گاجر بوٹی ۔
اس نے کوئی چھے سات برسوں میں پہلے سڑکوں کے گرد ڈیرہ جمایا اور پھر آہستہ آہستہ کھیتوں کا رُخ کیا۔ یہ ساؤتھ افریقہ اور لیٹن امریکہ اور انڈیا سے ہوتی ہوئی نارتھ پنجاب یہاں پہنچی ۔اسکا کوئی وقت نہیں وقت نہیں سردی گرمی بس اس کو جب بھی نمی ملتی ہے یہ سر اُٹھانا شروع کر دیتی ہے۔ سفید پھولوں والی یہ بوُٹی آپ کو سڑک کنارے نظر آتی ہوگی۔ یہ اتنی خطرناک بوٹی ہے۔ کہ اس کے ایک پودے کے ساتھ تقریباً ایک لاکھ بیج بنتے ہیں۔ اس کو کوئی ٹیمپریچر نہیں۔ اس کے آنے کی وجوہات میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی زیادتی ہوئی اور جنگلات کی کمی ہیں اس کے ساتھ ہمارا ویجیٹیشن پیٹرن کم ہوا ہے۔ اور پلاسٹک بیگز کا ہماری زمین میں آنا اس کے اسباب ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ اوپر گیا تو اس کو یہ موسم موافق آگیا۔ یہ میڈیسن پلانٹ کو نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ زیر زمین ایک ایسا ہارمون چھوڑتی ہے جو باقی پودوں کو بڑھنے سے روک دیتا ہے۔ اور دس سال تک اس کا بیج ضائع نہیں ہوتا۔ اور جب بھی اس کو نمی ملے مناسب درجہ حرارت ملے گا یہ اُگنا شروع ہو جائے گا۔ اس کے بیجوں کو جلانے سے بھی یہ ضائع نہیں ہوتے۔ یہ زمین کے اندر رہتا ہے یہ پھلدار پودوں کی اندر جو پولینیشن کا عمل ہے اس کو بھی ڈسڑب کر رہا ہے۔ جانور اس کو کھا رہے ہیں اور یہ دودھ میں شامل ہو رہا ہے ۔ اور انسانوں میں خوفناک الرجی کا سبب بن رہا ہے ۔ آزم کا سبب ہے۔ سینے کے انفیکشن ہو رہے ہیں اور ہمیون سسٹم کو خراب کر رہا ہے ۔اور الرجی کا شکایت کا سبب یہ پودا ہے۔ اس کی روک تھام کے لیے بہت بڑے پیمانے پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ایک دو پودے اُکھاڑنے سے ایک تو الرجی اور دوسرا اس کی بیج لاکھوں میں ہوتے ہیں مشکل ہے۔ نائیجیریا میں 90%رقبے پر جب یہ پھیلی تو وہاں قحط آ گیا۔ آسڑیلیا کے 84 ہزار مربع میل رقبہ پر یہ پھیل گئی۔
اس کا حل کیا ہے جان چُھڑانے کا ۔۔۔۔
اُکھاڑنے سے پہلے جب اس پر پھول لگے ہوں تو ننگے ہاتھوں سے اور ناک کو ڈھانپے بغیر کبھی ہاتھ نہ لگائیں۔
بہتر طریقہ یہ ہے کِی پھول پر آنے سے پہلے اس کو اُکھاڑیں۔ اور جلا دیں یہ کام تو ہم اپنے اپنے لیول پر کر سکتے ہیں۔ لیکن بڑے پیمانے پر اس کو تلف کرنے لے لئے ایک insect جو اس کو کھاتا ہے اُس کو ان پر چھوڑا جائے۔ لیکن اب سوال یہ ہے اُس کو بھی لانے کے لیے فنڈ کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ECO سسٹم اسکی وجہ سی پہلی ہی تباہ ہے۔ اور اگر ہم نے سنجیدگی سے اس پر کام نہ کیا تو ہمارا مستقبل روش نہیں ہوگا۔۔۔باہر سے ہم بیج اور اسپرے بڑی خوشی منگواتے ہیں لیکن یہ کبھی نہیں سوچتے کہ اُنہیں ہماری پرواہ نہیں وہ اپنا کاروبار کرتے ہیں۔ اور جو بیج ہم منگواتے ہیں وہ اُن میں وہ سب بھیجتےکہ ہم اتنے مہنگے بیج اور اسپرے منگوا کر جو اُگا رہے ہیں وہ Organic ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے
Information
کسی نے کیا خوب کہاتھا, اسپتال,پولیس تھانے اور کورٹ سے,خدا دشمن کو بھی بچائے, لیکن حقیقت دیکھئے, دشمن کو دعا دینے والا وہ انسان خود اپنے دشمن کو ان تین جگہوں تک لے آتا ہے, آج کورٹ روم میں ایک مقدمہ آخری مرحلے میں تھا, وہی عام سا بدنام سا مقدمہ جسکے بارے میں سن کر شرم تو آتی ہے لیکن کرتے ہوئے کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوتی, اسے عرفِ عام میں ریپ کہتے ہیں, عجیب ذہنیت ہے, ریپ کرنے والے کے لئے سزائے موت کا مطالبہ کرتے ہیں اور موقع ملتے ہی بہانے بہانے سے خود بھی وہی کر گزرتے ہیں, ایک بےحیا "ماڈرن لڑکی سے ریپ" کا مقدمہ چل رہا تھا جس نے اس وقت بھی کورٹ میں تنگ جینس اور چست ٹاپ لباس زیب تن کیا ہوا تھا, مقدمے کی سماعت کے بعد جج نے کنکلوزن کی بات کی تو ملزم کے وکیل نے کہا "جج صاحب اب میں اس کیس پر کچھ اور کہنا نہیں چاہتا, میں بس ایک بحث چھیڑنا چاہتا ہوں, بحث یہ کے آخر یہ اتنے ریپ ہو کیوں رہے ہیں, میرا مشاہدہ اور میرا تجربہ کہتا ہے جج صاحب یہ اللہ اور اسکے رسول کی نافرمانی کی سزا ہے جو عورتوں کو ریپ کی شکل میں مل رہی ہے, میری ملت کی بیٹیوں کی عزت داؤ پر لگی ہے جج صاحب اور اسے داؤ پر لگانے والی خود میری ملت کی بیٹیاں ہیں" وکیل نے مظلومہ لڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا "غور سے دیکھئے میری ملت کی اس بیٹی کو جو اس وقت بھی بےہودہ لباس میں ملبوس بےحیائی کا مجسمہ بنی بیٹھی ہے, میری ملت کی اس بیٹی کے اس لباس کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے اسے خود اپنی عزت کی کوئی فکر نہیں ہے, شاید یہ بھول گئی کے ایسے چست و تنگ لباس نہ صرف بےحیائی ہے بلکہ اللہ اور رسول سے بغاوت و نافرمانی بھی ہے اور اسی بات کی سزا ہے جو آج میری ملت کی بیٹیاں ریپ کی شکل میں بھگت رہی ہیں, جب تک وہ بےحیائی ترک نہیں کریں گی انہں اس سزا سے خود خدا بھی نجات نہیں دلا سکتا" وکیل کی خاموشی کے ساتھ ہی تالیوں کا ایک شور گونج اٹھا, اب باری تھی مظلومہ کے وکیل کی, لیکن وہ کہتا بھی تو کیا کہتا, ملزم کے وکیل نے جو بھی کہا تھا صحیح کہا تھا, اللہ اور رسول کی ضد میں اب وہ کیا دلیل پیش کرسکتا تھا, اسکی ہمت جواب دے چکی تھی, وہ اٹھ نہیں پارہا تھا, بوجھل کندھوں کو حرکت دیتے ہوئے جب اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو کسی نے اسکے کندھوں کو پیچھے سے دبوچ کر اسے بٹھادیا, یہ کوئی اور نہیں وہی مظلوم لڑکی تھی, اس نے کہا "بیٹھ جائیے وکیل صاحب بیٹھ جائیے, اب آپ سے نہیں لڑا جائےگا, کیونکہ آپ ہار مان چکے ہیں, اب یہ لڑائی میں خود لڑوں گی" اس نے آگے بڑھتے ہوئے جج سے اجازت مانگی تو جج نے اجازت دی, اس نے پہلے تو کورٹ میں موجود تماشائیوں پر ایک نظر ڈالی جو اسے نفرت اور طنز بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے, پھر اس نے ملزم کے وکیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا " جج صاحب میں ملزم کے وکیل کی شکر گزار ہوں کے انہوں نے کم سے کم مجھے ملت کی بیٹی تو سمجھا, ورنہ تو لوگ عورت کو ایک لاوارث میراث سمجھ کر اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں, اس پر اپنی مردانگی کا ناجائز حق آزماتے ہیں, شکریہ وکیل صاحب, بہت بہت شکریہ, آپ کی اس ہمت افزائی سے میری خود اعتمادی کو یک گونہ قوت ملی ہے اور اسی قوت کے ساتھ یہاں موجود ہر شخص سے میں سوال کرنا چاہتی ہوں" اس نے کورٹ میں موجود لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا "اگر آپ کی بیٹی آپ کے سامنے آجائے تو آپ کی آنکھوں میں کیا ابھرےگا, اپنی بیٹی کے لئے پیار یا ایک لڑکی کے لئے ہوس, اگر آپ کی بیٹی آپ سے بات کرے اور آپ سے مدد چاہے تو آپ کیا دیکھیں گے, گزارش کرتی ہوئی اسکی آنکھیں یا دل و دماغ بہکانے والے اسکے ہونٹ, اگر آپ کی بیٹی آپ سے لپٹ کر روتی ہے توآپ کیا کریں گے, اسے سہارا دیں گے یا اسکا فائدہ اٹھائیں گے, اگر آپ کی بیٹی بےحیاء لباس میں آپکے سامنے آجاتی ہے تو آپ کیا کریں گے, اپنی آنکھیں پھیر لیں گے یا ہوس کا جنون لئے اس پر ٹوٹ پڑیں گے" ابھی اسکی بات ختم بھی نہیں ہوئی تھی کے وکیل نے بیچ میں ٹوکتے ہوئے کہا "محترمہ, ملت کی بیٹی اور حوّا کی بیٹی میں فرق ہوتا ہے اس فرق کو سمجھیں آپ" مظلومہ نے جھٹ سے کہا "جانتی ہوں وکیل صاحب اچھے سے جانتی ہوں, اپنی بیٹی اور دوسروں کی بیٹی میں بڑا فرق ہوتا ہے, میں تو بس ملت کے سوئے ہوئے ایمان کو جگانے کی کوشش کررہی تھی, کیونکہ دنیا کی ہر قوم کی طرح یہ قوم بھی غلطیوں کو سدھارنا نہیں غلطیوں کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے, لیکن میں ایسا ہونے نہیں دونگی, ملت کی بیٹی ہوں نا اسلئے اپنی قوم کے ایمان کو جگاکے رہوں گی, کیا کہا تھا وکیل صاحب آپ نے, ریپ بےحیائی اور اللہ اور رسول کی نافرمانی کی سزا ہے, اگر اللہ اور رسول نے عورت کو جسم چھپانے کا حکم دیا ہے تو مردوں کو بھی نظریں جھکانے کا حکم دیا ہے, اگر عورت کی بےحیائی کی سزا ریپ ہے تو مرد کی بےحیائی کی سزا یہ ہے کہ اسکی آنکھیں گرم سلاخوں سے پھوڑ دی جائیں" اس آخری جملے سے سارا کورٹ روم گونج اٹھا, مظلومہ نے وکیل سے کہا "آپکی نظر میں یہ سزا ناگوار چیز ہے نا وکیل صاحب لیکن اس سے بھی شدید ناگوار چیز ہوتی ہے یہ ریپ جسے اتنی آسانی سے انجام دیا جاتا ہے مانو بچوں کا کھیل ہو" وہ رو رہی تھی, اسکی آنکھیں درد, غصہ, مایوسی, نا امیدی, لاچاری, بےچارگی, شرمندگی, اور نہ جانے کن کن جذباتوں کا پرتو لئے اشک بار ہو رہیں تھیں, وہ لگاتار رو رہی تھی, بس روئے جا رہی تھی, اسکی ہچکی بندھ رہی تھی, اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا "میرا ریپ ہوا تو میری ماں صدمے سے مر گئی اور میرے بابا شرم سے مر گئے, میری بہن کسی کو منہ نہیں دکھا سکتی اور میرا بھائی سر نہیں اٹھا سکتا, گھر سے لے کر خاندان اور محلے سے لے کر پورا سماج ہم کو دھتکار رہا ہے, غلطی میری تھی سزا مجھے دیتے میرے بےگناہ گھر والوں کے ساتھ ظلم کیوں, انہوں نے میری تربیت ویسی ہی کی جیسا سماج ہے, غلط تربیت پر گھر والوں کو سزا مل سکتی ہے تو غلط سماج کے لئے قوم کو سزا کیوں نہیں, مانا کے مردوں کو رجھانے کے لئے عورت بےپردہ ہوتی ہے تو کیا اسکا یہ مطلب نکالا جائے گا کہ وہ ریپ کروانا چاہتی ہے, یہ کہاں کی نفسیات ہے, مانا کے بےپردگی عورت کا قصور ہے بلکہ جرم ہے گناہ ہے گناہِ عظیم ہے, تو کیا مردوں کو یہ حق مل جاتا ہے کے سزا کے نام پر ریپ کردیں, اور اگر مردوں کو ریپ کا حق ہے تو عورتوں کو بھی مردوں کی آنکھیں پھوڑنے کا حق ملنا چاہئے, کیونکہ انصاف پر عورت کا بھی برابر کا حق ہے, اگر مردوں کو اللہ اور رسول کی نافرمانی کی کوئی سزا نہیں ملتی تو کیوں عورتوں کو صرف اتنی بڑی سزا...؟؟؟
ایک سنسنی خیز سناٹے کے ساتھ مقدمہ کی سماعت مکمل ہوچکی تھی اب جج کے فیصلے کا انتظار تھا,ساری دلیلوں اور واقعات کے مد نظر آپکا ضمیر جو فیصلہ کرے گا وہی جج کا فیصلہ ہوگا, براہِ کرم اپنے فیصلے سے آگاہ کریں
صرف اتنی بڑی سزا...؟؟؟
موبائل کے اندھا دھند استعمال کی ایک مثال 😂
کل میں واٹس ایپ استعمال کرتا کرتا اپنے گھر کی بجائے ہمسایئوں کے گھر داخل ہو گیا اور ٹی وی لاؤنج میں جا کر بیٹھا تو پتہ چلا یہ اپنا گھر نہیں ہے۔
ابھی میں کچھ سوچ ہی رھا تھا کہ، ہمسائے کی بیوی بھی اپنے کچن سے موبائل فون استعمال کرتے کرتے باہر نکلی، پہلے مجھے پانی دیا اور پھر چائے بھی دے دی، ساتھ ہی یہ بھی سوال کر ڈالا کہ "آج آفس سے جلدی کیسے؟"
میں ابھی جواب سوچ ہی رہا تھا کہ ہمسائی کا شوہر بھی فون استعمال کرتا کرتا گھر میں داخل ہوا جسے دیکھ کر میں پریشان ہو گیا کہ وہ مجھے اپنے گھر بیٹھا دیکھ کر کیا سوچے گا؟" لیکن جیسے ہی ہمسائے نے مجھے ٹی وی لاؤنج میں چائے پیتے دیکھا تو فوری مجھے سوری بولا اور گھر سے باہر چلا گیا۔😂😂😂🤣🤣🤣
موبائل کے نقصانات
وہ ایک قبر کے کنارے بیٹھا اپنے آپ ھی مُسکرا رھا تھا.
مریم کے سا تھ گُزرے حسِین لمحے اُس کے دماغ میں فلم کی طرح چل رھے تھے. وہ سارے خواب ایک ایک کر کے جینا چاھتے تھے وہ جن کی حقیقت ھونے کا سلسلہ شروع ھو چُکا تھا.
پامپ پامپ...
اچانک تیز ھارن کی اس آواز کے ساتھ اُس کی مُسکراھٹ اُداسی میں بدل گئی اور سارے خواب ٹوٹ گئے.
اُس اندھو ناک حادثے نے اُس کی پیاری بیوی مریم کو چھین لیا تھا. اُن کی شادی کو صرف سات ماہ ھوئے تھے اور مریم کی عمر صرف 22 سال تھی. آج مریم کی قبر پے بیٹھا اُس کی یادوں کو فل میں پیوست کر رھا تھا.
تم ابھی صرف 25 سال کے ھو ساری زندگی پڑی ھے تمہارے آگے کب تک مریم کی یاد میں اکیلے رھو گے. اور تمہارے اس اکیلے پن مریم خوش ھو گی کیا...؟
میری بات مانو شادی کے لیے ھاں کر دو.
اُس کی ماں اُس کی دوسری شادی کروانا چاھتی تھی. میں ابھی زھنی طور پر تیار نہیں ھوں. اُس نے کہا, آپ حِرا کی شادی کی فکر کریں اُس کے بعد میں بھی مان جاؤں گا...
حِرا اُس کی چھوٹی بہن کا نام تھا.
بیٹے کی بات سنتے ھی ماں نے حِرا کے رشتے دیکھنے شروع کر دیے جلد ھی ایک بہت اچھے خاندان میں اچھی طرح چھان بین کے بعد شادی کر دی گئی.
اب ماں نے اُس سے دوبارہ شادی کی بات چھڑی, وہ مان تو گیا پر اُس نے ایک شرط رکھ دی کے کسی طلاق یافتہ لڑکی سے شادی کرے گا تاکہ کسی کی بےرنگ زندگی میں رنگ بھر سکے. اور شرط سنتے ھی اُس کی ماں کا رنگ غیر ھو گیا اور غصے سے لال پیلی ھو گئی.
میں کسی آوارہ بدکردار لڑکی ھو ھرگز اپنی بہو نہ بناؤں گی...
بھلا شریف لڑکی کو طلاق ھوتی
طلاق تو تیز طرار فیطین اور آوارہ لڑکیوں کو ھوتی ھے. میں ھرگز کسی طلاق یافتہ گھر نہیں لاؤں گی.
اب تو ماں بیٹے میں اسی بات پر اَن بن رھنے لگی.
وہ اپنی ماں کو سمجھاتا کے ھمیشہ برائی لڑکی میں نہیں ھوتی, لڑکے بھی خراب ھو سکتے ھیں.
اسی اَن بن میں 18 مہینے کا کا عرصہ گزر گیا.
ایک دن اُس کی بہن کے ساس سُسر اور اُس کی بہن گھر آئے. حِرا بلکل ٹھیک لگ رھی تھی.
ارے اچھا ھوا آپ لوگ آگئے میں کافی دن سے حِرا سے ملنے کا سوچ رھی تھی لیکن آنا نہیں ھو پایا.
حِرا کی ماں نے کہاں.
اب سب کمرے میں موجود تھے حِرا کے سُسر بولے...
مجھے سمجھ نہیں آ رھا آپ لوگوں سے کیسے کہوں
دیکھیے بہن, حِرا بہت اچھی لڑکی ھے، ھمیں اس سے کوئی شکایت نہیں...
لیکن
اب ھمارا بیٹا شاید اس کے قابل نہیں رھا. شادی کے کچھ مہینوں بعد سے میرا بیٹا نا جانے کن لوگوں کے ساتھ بیٹھنے لگا. وہ نشے کا عادی بن چُکا ھے, شراب نوشی بھی کرتا ھے اور پہلے تو صرف لڑائی جھگڑا کرتا تھا اب حِرا پر ھاتھ بھی اُٹھانے لگا ھے. اسی وجہ سے ھم نے اُسے گھر سے نکال دیا ھے. اور بہت سوچ بچار کے بعد ھم نے یہ فیصلہ کیا ھے کہ آپ کی بیٹی کی زندگی خراب نہ کی جائےاسے ھم اپنے بیٹے سے طلاق دلوا دیں گے اور خود اس کی شادی کسی دوسری جگہ کروائیں گے...
ھم اپنے بیٹے کی وجہ سے بہت شرمندہ ھیں. اور حِرا کو اپنی بیٹی کی طرح کسی اور کے ساتھ رخصت کریں گے. اور.... اور
وہ بولتے گئے اور اُس کی ماں سکتے کی سی حالت میں بیٹھی سنتی رھی اور آنسو بہاتی رھی...
اب اُس کی اپنی بیٹی بھی طلاق یافتہ تھی. اور طلاق یافتہ لڑکیوں کے لیے اُس نے جو الفاظ ادا کیے تھے وہ اُس کے کانوں میں گونج رھے تھے.
اب ماں کو سمجھ آگیا تھا کہ بیٹا ٹھیک کہتا تھا ھر بار لڑکی قصور وار نہیں ھوتی...
چاھے جتنی بھی چھان بین کرلو لڑکیوں کی شادی نصیب سے ھوتی ھے. ایک جُوے کی طرح، قسمت اچھی تو لڑکی خوشحال. طلاق یافتہ ھونا کوئی بُرائی نہیں یہ تو قسمت کے کھیل ھیں اکثر بُرے سے بُرے اعمال والی لڑکیوں کے گھر بس جاتے ہیں اور اچھی سے اچھی لڑکیوں کے نہیں بس پاتے. تربیت سے پرکھیں صرف اس وجہ سے کوئی رائے قائم کر لینا کہ طلاق یافتہ ھے بہت زیادتی ھے...
معاشرے کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ھمیں اپنی سوچ کُشادہ رکھنے کی ضرورت ھے.
story
ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا، بشیر. بہت نالائق اور نکھٹو طبیعت کا تھا...
اس کے اسکول میں استاد اور استانیاں اس سے نالاں رہتے تھے اور ساتھی مذاق اڑاتے تھے.
ایک دن، بشیر کی اماں اسکول آئیں اور استانی جی سے اپنے پیارے بیٹے کی پڑھائی پر بات کرنا چاہی.
استانی جی تو بھری بیٹھی تھیں. بشیر کی بے وقوفی اور پڑھائی میں غیر دلچسپی کی داستانیں بغیر لگی لپٹی رکھے، اس کی اماں کو سنا ڈالیں. کہ یہ اتنا نالائق ہے کہ اگر اسکا باپ زندہ ہوتا اور بینک کا مالک بھی ہوتا تب بھی اس کو نوکری پہ نا رکھوا پاتا.
بیوہ ماں پر سکتہ طاری ہو گیا. بغیر کچھ کہے، اپنے پیارے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور اسکول سے چلی گئی. نہ صرف اسکول، بلکہ وہ گاؤں بھی چھوڑ کر شہر چلی آئی.
وقت گزرتا گیا، گاؤں بڑھ کر قصبہ بن گیااور 25 سال گزر گئے. اسکول کی استانی جی کو دل میں شدید درد محسوس ہوا.
ہسپتال میں داخل کرایا لیکن درد بڑھتا رہا اور سب لوگوں نے، قریب بڑے شہر کے اچھے ہسپتال میں اوپن ہارٹ سرجری کا مشورہ دیا.
سب کے مشورے سے وہ شہر چلی آئیں اور سرجری کروالی. آپریشن کامیاب رہا اور انھیں کمرے میں لے جا یا گیا.
بیہوشی کی ادویات کے زیر اثر، انھوں نے آنکھ کھولی تو سامنے ایک خوبصورت نوجوان مسکراتا نظر آیا.
اسے پہچاننے کی کوشش کرتے ہوتے یکدم انکا رنگ نیلا پڑنے لگا انھوں نے انگلی سے ڈاکٹر کی طرف اشارہ کرکے کچھ کہنا چاہا لیکن شاید مصنوعی آکسیجن بند ہو چکی تھی.......
ڈاکٹر خوفزدہ اور پریشان ہو گیا اور اس نے آگے بڑھ کر انھیں سنبھالنے کی کوشش کی. لیکن استانی جی نے لمحوں میں ہی دم توڑ دیا.
ڈاکٹر کی آنکھوں میں آنسو تھے. وہ پلٹا تو دیکھا کہ ہسپتال کے بھنگی، بشیر نے، وینٹی لیٹر کا پلگ نکال کر اپنے ویکیوم کلینر کا پلک لگا دیا تھا.......
اب آپ اگر یہ سمجھ رہے تھے کہ خوبصورت ڈاکٹر وہی سادہ اور بے وقوف سا لڑکا، بشیر، تھا جس کی ماں نے اس کا ہا تھ پکڑ کر روتے ہوئے گاؤں چھوڑا تھا اور شہر آکر اس کو ڈاکٹر بنوا دیا تھا، تو پلیز جاگ جائیں.....
انڈین فلموں کے اثر سے باہر آجائیں.
حقیقی
زندگی میں بشیر،












